Friday, April 19, 2013
جامعہ میں شعبہ اردو کے زیر اہتمام انٹر یونیورسٹی تحریری و تقریری مقابلوں کا انعقاد
Sunday, December 16, 2012
نئی دہلی۔16؍دسمبر۔
Friday, December 14, 2012
کوئی بھی زبان صرف کلاسیکی ادب کے ذریعے قائم نہیں رہ سکتی جب تک کہ اس میں عوامی ادب نہ شامل ہو : شمیم حنفی
ابن صفی کی تحریروں سے میں نے اردو زبان سیکھی: نجیب جنگ
شعبۂ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اردو اکادمی دہلی کے اشتراک سے ’’ ابن صفی: شخصیت اور فن‘‘ کے موضوع پر سہ روزہ قومی سمینارکا افتتاح
Saturday, December 1, 2012
نئی دہلی، یکم دسمبر ۲۰۱۲
پروفیسر شمیم حنفی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ٹیگور کی دس کتابوں کے ترجمے کے لیے ایک خاکہ پیش کیا جس میں ٹیگور کی داستان حیات، خود نوشت، سفرنامہ، شاعری کا انتخاب، کہانیوں کا انتخاب، ڈراموں کا انتخاب، ٹیگور اور فنون لطیفہ، بچوں کا ادب، ٹیگور کے مضامین، ٹیگور اور ان کے معاصرین اور ٹیگور پر اردو میں لکھے گئے مضامین کے انتحاب پر مشتمل کتابیں شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک زمانے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو مسلمانوں کا شانتی نکیتن کہا جاتا تھا۔ آج اس ادارے کے تحت اگر یہ کام سلیقے سے مکمل ہوجاتا ہے تو ایک تاریخ ثبت ہوگی۔ اس کام کو مکمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ چھوٹے چھوٹے گروپ بنائے جائیں اور ٹیگور کی ہر کتاب کے انتخاب سے پہلے ایک مکمل مضمون بھی اس حوالے سے کتاب میں شامل کیا جائے۔پروفیسر عتیق اللہ نے ٹیگور کے ان مضامین کے انتخاب پر زرو دیا جو مختلف رسائل مثلاًعالم گیر، مخزن، دلگداز، زمانہ، ماہ نو وغیرہ میں شامل ہیں ۔ انھوں نے فرمایا کہ یہ پروجیکٹ ٹیگور کی بازیافت کے لیے ایک مستحکم قدم ہے۔ آزادی کے بعد ٹیگور کے حوالے سے اندر کی روح یا آواز سے کم تراجم ہوئے ہیں۔ ٹیگور ایک رشی منی تھے جو زندگی بھر لکھتے رہے۔ انھوں نے مذہب، آرٹ، کلچر، فنون لطیفہ پر بھی بہت کچھ لکھا ہے ۔ اس حوالے سے بھی اور ان کے انٹرویوز کے تراجم کے حوالے سے بھی کتاب کی اشاعت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے ٹیگور کے مضمون ’’کرائسس آف سیوی لائیزیشن‘‘ کے ترجمے پر بھی اصرار کیا۔ بنگالی زبان و ادب کے مشہور ادیب اور استاد پروفیسر نیبندو سین نے ٹیگور کی کئی کتابوں بالخصوص ان کی نثری تصنیفات ، ان کے محتلف موضوعات پر مشتمل مضامین اور بچوں کے لیے لکھی گئی تحریروں کی اشاعت کو لازمی قرار دیا۔ ڈاکٹر عبدالرشید نے فرمایا کہ پروفیسر محمد مجیب کے تین ڈرامے اور عابد حسین کی ٹیگور پر کتاب کی دوبارہ اشاعت اس پروجیکٹ کی جانب سے کی جانی چاہیے۔ پروفیسر نندیتا بسو نے ٹیگور کی تصنیفات اور تخلیقات کی نئے تراجم پر اصرار کیا۔ مشرف عالم ذوقی نے ٹیگور کی دس کتابوں پر مشتمل ایک کلیات کی ایک اشاعت اور ٹیگور کی کہانیوں پر مشتمل ای بُک کو تیار کرنے پر زور یا۔ انھوں نے ٹیگو رکی موسیقی اور مصوری کے حوالے سے بھی کی ایک کتاب کی اشاعت پر اصرار کیا۔ڈاکٹر گوبند پرشاد نے کہا کہ ٹیگو ر کے ہندی میں کافی تراجم مہیا ہیں۔ ان کے ناولوں اور افسانوں کا ترجمہ ہندی سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر شرمسٹھا سین نے ٹیگور کے ایران کے سفرنامے کو بے حد اہم قرار دیتے ہوئے اس پروجیکٹ کے تحت اس کی اشاعت پر زور دیا۔ ڈاکٹر منشی محمد یونس نے ٹیگور کے ناول ، ڈرامے، گانے، کہانیاں، مضامین، خود نوشت وغیرہ کی ایک تفصیلی فہرست پیش کی اور ان کے حوالے سے مدلل گفتگو کی۔ تمام مباحث کی روشنی میں اتفاق رائے سے یہ طے پایا کہ ٹیگور کی دس کتابیں مختلف موضوعات پر شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ سے شائع ہونی چاہیے۔ بلا شبہ یہ قدم ٹیگور شناسی کے حوالے سے ایک تاریخی یادگار اور اہم ثابت ہوگا۔ جس سے ہندوستانی ادب و تہذیب کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ پروگرام کے آخر میں شعبہ کے استاد ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی نے اردو اور بنگلہ زبانوں کے سبھی ادیبوں ، ریسرچ اسکالروں اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اردو اخبارات و رسائل کے مدیران کا بھی شکریہ ادا کیا ۔
Saturday, November 17, 2012
Saturday, January 29, 2011
ریسرچ اسکالرز سمینار
ہندستان میں علم و دانش کا بیش بہا ذخیرہ موجود ہے آپ اپنی محنت اور صلاحیت سے تحقیق و جستجو کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں

آپ اپنی محنت اور صلاحیت سے تحقیق کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں ۔کمروں میں بیٹھ کر تحقیق کا حق نہیں ادا کیا جاسکتا ہے ۔اس کے لیے آپ کو لائبریروں اور دانش گاہوں کی خاک چھاننی ہوگی ان خیالات کا اظہار مشہور فکشن رائٹر زاہدہ حنا نے شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالرز سمینار کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر کیا ۔افتتاحی اجلاس کی صدارت اردو اکیڈمی کے وائس چیرمین پروفیسر اخترالواسع نے فرمائی ۔پروفیسر مختار شمیم مہمان اعزازی کے طور پر شریک ہوئے ۔نظامت ڈاکٹر عمیر منظر نے کی ۔زاہدہ حنانے کہا کہ ہندستان ایک وسیع و عریض ملک ہے یہاں علم ودانش کا بیش بہا ذخیرہ موجود ہے ۔نئے موضو عات کے ساتھ ساتھ ادب و تہذیب کے بہت سے موضوعات ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔افتتاحی اجلاس میں شعبہ کے دو اسکالر صفوان صفوی (نثر آزاد کی شعریت :غبار خاطر کے حوالے سے )اور سلمان فیصل (آزادی کے بعد دہلی کے ادبی رسائل )نے مقالے پڑھے ۔ان کو سننے کے بعد زاہدہ حنانے کہا کہ ان اسکالروں نے جس اعتماد اور خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے اپنے موضوعات کا احاطہ کیا ہے اس سے شعبۂ اردو ہی نہیں بلکہ اردو کے خوش آیند مستقبل کی ضمانت دی جاسکتی ہے ۔زاہدہ حنا نے کہا کہ نئی نسلوں کو اسی انداز میں تربیت کی ضرورت ہے اس کے لیے انھوں نے شعب�ۂ اردو کی کوششوں کو بطور خاص سراہا ۔پروفیسر خالد محمود نے مہمانوں اور حاضرین کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ شعبۂ اردو میں تدریس کے ساتھ طلبا کی تربیت کا بھی خاص خیال رکھا جاتاہے۔پروفیسر مختار شمیم نے کہا کہ ان دنوں تحقیق و تنقید کابیشتر سرمایہ تن آسانی کا شکار ہوگیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ شعبۂ اردو کی ان کوششوں سے تحقیق کا درجہ بلند ہوگا ۔ڈاکٹر اقبال مسعود نے کہا کہ شعبے کی یہ اچھی روایت ہے اس کے اساتدہ اور طلبہ سب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ صدارتی خطاب میں پروفیسر اخترالواسع نے کہاکہ یہ سمینار علم وادب کی تحقیق کے لیے فال نیک ہے ۔ان دنوں جبکہ بازار کی قوتیں تعلیمی اداروں کو اپنی گرفت میں لیتی جارہی ہیں اور تعلیم بے چہرہ ہوتی جارہی ہے بعید نہیں کہ تعلیمی ادارے آئندہ تحقیق کے مرکز کے طور پر ہی باقی رہیں ۔پروفیسر شہپر رسول نے زاہدہ حنا کا تعارف پیش کیا انھوں نے بتایا کہ ادب و صحافت دونوں حوالوں سے زاہدہ حنا کا نام بہت معتبر ہے ۔افسانے ،ناول اور ڈرامے کے ساتھ ساتھ میڈیا سے ان کی غیر معمولی وابستگی رہی ہے ۔سمینار کے کنوینر ڈاکٹر شہزاد انجم نے سمینار کی غرض وغایت اور جامعہ کے عام ادبی و علمی ماحول پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس کا مقصد جامعہ میں علم و دانش کی روایت اور طلبہ میں ادبی ذوق و جستجو کو پروان چڑھانا ہے ۔افتتاحی اجلاس کے موقع پر پروفیسر مختار شمیم کی کتاب سواد حرف اور ڈاکٹر شہزاد انجم کی معاصراردو افسانہ اور ذوقی کا زاہدہ حنا کے دست مبارک سے اجرا کیا گیا ۔ابتدا میں پروفیسر قاضی عبید الرحمن ہاشمی نے پھولوں کے گلدستے سے زاہدہ حنا کااستقبال کیا ۔افتتاحی اجلاس کا آغاز شہنواز فیاض کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔
Sunday, January 16, 2011
ایک چراغ اور گل ہوا
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی معروف شخصیت شعبہ انگریزی کی سابق پروفیسر اور منفرد شاعرہ،ادیبہ محترمہ زاہد ہ زیدی اب اس دنیامیں نہیں رہیں
اردو اور انگریزی میں متعدد شعری مجموعوں اورتنقیدی مضمامیں کے مجموعوں ،ناولوںاور ڈراموں کی تخلیق کار اپنا ادبی سرمایہ اردو ادب کے سپرد کر کے رخصت ہوگیں ۔ ان کو بہت سے ادبی ایوارڈ بھی ملے تھے۔ میرا ان سے بچپن سے ایک گہرا تعلق رہا ہے۔ میں ان کو زاہدہ خالہ کہتی تھی، ان سے میں نےشاعری ،ادب اور ڈرامے کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ میری یادوں کے البم میں ان کی ان گنت تصاویر ہیں۔ مشاعروں میں نظمیںسناتی، علی گڑھ یونیورسٹی کے ویسٹرں ڈرامہ کلب کےلیے ڈرامے ڈایکیرٹ کرتی۔ اپنے شاگردوں سے محبت کرتی ۔ بےایمانیوں اور بد عنوانیوں پر غصہ ہوتی ہویی اور اپنے چھوٹے سے خوش ذوقی سے سجے ہوئے فلیٹ میں اپنی کتابوں ، اور رسالوں میں گھری ہویی
وہ میری امی_سیدہ فرخت کے بچپن کی دوست تھین، میرے سارے بہن بھاییوں سے خآص تعلق خاظر تھا]میری شاعری اور افسانہ نگاری پر انکے بے لاگ تبصرے مجھے بہت عزیز ہیں۔ جب انھون نے میر ے افسانوں کے مجموعے آنگن جب پردیس ہوا کی دل کھول کر تعریف کی تو میں بہت خوش ہویی تھی کیونکہ زاہد ہ خالہ یوں ہی تعریف نہین کرتی تھین
اگرکہا جاِیے کہ ان کا اوڑھنا بچھونا ہی اد ب تھا تو غلظ نہ ہوگا
انھون نے چیخوف کے ڈراموں کا اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ اور انکو علی گڑھ میں اسٹیج بھی کیا تھا
جب ویسٹرن ڈرامہ کلب کی طرف سے وہ انگریزی یا دوسری زبانوں سے ترجمہ کردہ ڈرامے یونیورسٹی کے کینڈی ہال میں اسٹیج کرنا چاہیی تھین تو یونیورسٹی کے ڈرامہ کلب والوں کو اعتراض ہوتا تھای کہ ویسڑن ڈرامہ کلب کو صرف انگریزی مین ڈرامے کرنے کی اجازت ہے۔ اردو کے ڈرامے تو دوسرا ڈرامہ کلب ہی کرسکتا ہے
کیی ڈرامے انھون نے خود اپنے گھر مین اورایک ہمارے گھر "فرحت کدہ" میں اسٹیج کیا تھا
ان ڈراموں کے سارے اخراجات وہ خود ہی اٹھاتی تھین
زاہدہ خالہ کے ساتھ ایک دور ختم ہوگیا۔ ہماری یادوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی اور اپنی منعدد کتابوں میں زندہ ہیں۔ان کی ادبی خدمات پر تو ایک پورا ایک مضمون درکارہے ۔اس وقت تو قلم برداشتہ انکی یاد میں کچھ بے ربط سی باتیں ہی ممکن ہیں
آج وہ اس وقت علی گڑھ میں سپرد خاک ہوگیی ہوں گی۔ ان کی ایک بہت پرانی غزل کا ایک شعر مجھے بہت پسند ہے جوانکے اولین مجموعہ کلا۔ "زہر حیات" کے آخری صفحے پر ہے
سنا رہی ہیں وفا کی راہیں شکست پرواز کا فسانہ
کہ دور تک وادیء طلب میں پڑے ہیں ہر سمت خواب ٹوٹے










